حضرات جنت البقیع میں مدفون


قاضی عیاض نے امام مالک رضی اللہ تعالی عنہما سے نقل کیا ہے رسول اللہ ﷺ اس اس غزوہ سے واپس ہوئے اور اس اس طرح ہزار صحابہ آپ ﷺ کے ہمراہ تھے ان ہزاروں میں سے تقریبا دس ہزار کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی اور بقیہ دنیاکے مختلف ملکوں میں پھیل گئے۔ ترتیب المدارک وتقریب المسالک للقاضی عیاض)
جو مشہور حضرات جنت البقیع میں مدفون ہیں ان کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں
سعید بن زید بن نفیل قرشی، عبد الرحمن بن عوف قرشی، عبد اللہ بن سعود ہذلی، عبد اللہ بن ابوبکر، ابی بن کعب انصاری، اسید بن حضیر، اسامہ بن زید، اوس بن ثابت بن منذر، اوس بن خولی بن عبد اللہ انصاری، اسعد بن زرارہ، ارقم بن ابی الارقم، جابر بن عبد اللہ، جبار بن صخرا انصاری، جبیر بن معطعم قرشی، حارث بن خزیمہ، ابوبشر، حکیم بن حزام بن خویلد، حسان بن ثابت، حجاج بن علاط سلمی، حاطب بن ابی بلتعہ لخمی، حویطب بن عبد العزی قرشی، حباب مولی عتبہ، خفاف بن ایمی غفاری، خویلد بن عمرو، ابو شریح خزاعی، خوات بن جبیر، ابو عبد اللہ، زید بن خالد جہنی، سلمۃ بن سلامہ انصاری، سلمۃ بن الاکوع، سہل بن بیضا، سہل بن سعد، سہل بن ابی حتمہ، سائب بن یزید الکنائی، سہیل بن بیضاء، صہیب بن سنان، صخر بن حرب ابو معاویہ، عبد اللہ بن عبداللہ بن بحسینہ، عبد اللہ بن ثابت انصاریم عبد اللہ بن غسیل ابو حنظلہ، عبداللہ بن کعب انصاری، عمرو بن سرح قرشی، عمرو بن امیہ ضمری، عمرو بن حزم بن زید، عقبۃ بن عمرو ابو مسعود بدری، عقبہ بن مسعود ہذلی، علقمۃ بن وقاص لیثی، قیس بن سعد بن عبادۃ انصاری ابو الفضل، قتادہ بن النعمان انصاری، ابوعمرو، کعب بن مالک انصاری، ابو عبد اللہ، محمد بن مسلمہ انصاری، محمد بن ابی الجہم، محمد بن ابی بن کعب،معاذ بن الحارث انصاری، مالک بن عمرو بن عتیک، مالک بن ربیعہ انصاری، مغیرہ ثقفی، معقل بن سنان، مخرمہ بن نوافل قرشی، مقداد بن اسود حضرمی، نوفل بن معاویہ، ہند بن حارثہ اسلمی، ابوشریح کعبی خزاعی، ابوہریرہ دوسی، ابو الیسر انصاری، ریحانہ بنت شمعون، ماریہ قبطیہ ام ابراہیم، ام رومان زوجہ ابوبکر صدیق، ام سلیم بنت ملحان، سبعیہ بنت الحارث اسلمیہ رضی اللہ عنہم اجمعین
وقت کے ساتھ ساتھ ان مذکورہ حضرات کی قبروں کے آثار ذہنوں سے نکل گئےسوائے چند کے تمام قبروں کی نشانیاں وعلامات ختم کر دی گئی۔ جو قبریں ابھی تک پہچانی جاتی ہیں وہ اہل مدینہ کی نقل در نقل اور نسلا عن نسل بالتواتر چلی آ رہی ہیں، نیز مورخین نے بھی اپنی کتابوؓ میں بعض قبور کی نشاندہی کی ہے جیسا کہ فیروز آبادی نے اپنی کتاب مغانم طابہ اور سمہودی نے وفا الوفا میں قبروں کی نشان دہی کی ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں کی قبریں
سیدہ ام کلثوم، سیدہ رقیہ، سیدہ زینب السلام علیہا مذکوہ بالا تینوں قبریں بقیع کے مغربی صدر دروازے کے سامنے تقریبا 30 میٹر کے فاصلے پر ہیں
اہل بیت السلام علیہم کی قبریں
سیدہ فاطمہ السلام علیہا، حضرت عباس بن عبد المطلب، حضرت حسن، حضرت زین العابدین ، محمد الباقر،حضرت جعفر السلام علیہم۔ ان مذکورہ حضرات کی قبریں آپ ﷺ کی صاحبزادیوں کی قبر سے دائیں جانب 25 میٹر کے فاصلے پر ہے
آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کی قبریں
سیدہ عائشہ، سیدہ سودہ، سیدہ حفضہ، سیدہ زینب، سیدہ ام سلمہ، سیدہ جویرہ، سیدہ ام حبیبہ، سیدہ صفیہ، سیدہ زینب السلام علیہم کی قبریں آپ ﷺ کی صاحبزادیوں کی قبروں سے شمال میں 8 میٹر کے فاصلے پر ہیں
حضرت عقیل بن ابو طالب، حضرت عبد اللہ بن جعفر الطیار، ابو سفیان بن الحارث بن عبد المطلب رضی اللہ تعالی عنہما کی قبریں ازواج مطہرات سے پانچ میٹر شمال میں ہیں
عقیل بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر سے مشرق میں دس میٹر کے فاصلے پر دو قبریں ہیں ایک امام دار الہجرہ امام مالک بن انس رضی اللہ تعالی عنہ جن کی نسبت سے مذہب مالکی ہے اور ان کے شیخ امام نافع بن ابی نعیم رضی اللہ تعالی عنہ کی ہے یہ مدینہ منورہ کے قراء امام کہلائے نیز ان دس مشہور ائمہ قراء میں ایک جن کی قراءات متواتر ہیں
امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر سے بیس میٹر مشرق میں حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ جو کہ پہلے مدفون بقیع مہاجرین میں سے تھے ان کی قبر کے ساتھ حضرت ابراہیم جو کہ آپ ﷺ کے صاحبزادے ہیں، حضرت عبد الرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، اسعد بن زرارہ،خنیس بن حذافہ سہمی رضی اللہ تعالی عنہما کی قبریں ہیں
ان قبر وں کے ساتھ ایک قبر فاطمہ بن اسد رضی اللہ تعالی عنہا جو کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہا کی والدہ اور آپ ﷺ کی مربیہ تھیں آپ ﷺ نے ان کی وفات پر اپنی قمیص اتار کی پہنائی اور خود قبر میں اترے
حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر سے تقریبا 75 میٹر کی دوری پر وہ جگہ ہے جس کو مدفن شہدا حرہ کہا جاتا ہے یہ ان شہداء صحابہ اکرام رضی اللہ تعالی عنہما کی قبریں ہیں جن کی شہادت یزید کی فوج سے مقابلے کے درمیان ہوئی۔ ان حضرات قدسیاں نے اپنی جان اہل مدینہ کے دفاع کے لیے قربان کر دی یہ ایک مستطیل گھری ہوئی جگہ ہے جس کا پتھر سے احاطہ کیا گیا ہے بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ یہ احاطہ چھت دار تھا جس کی بلندی زمین سے کوئی خاص ابھری ہوئی نہ تھی
بقیع کے وسط میں شہداء حرہ کی قبروں سے 135 میٹر کی دوری پر بجانب شمال مشرق جلیل خلیفہ راشد حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر مبارک ہے
قبر سعد بن معاذ الاشہلی رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر مبارک سے 50 میٹر کی دوری پر ہے
حضرت ابو سعید اور حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہما بقیع سے باہر شمال میں اس رستہ کے کنارے تھیں جو حرہ شرقیہ کوجاتاہے ان قبروں کو بقیع کی آخری توسیع 1375 ہجری میں شامل کیا گیا یہ قبریں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر کے شمال میں ہے
حضرت اسماعیل بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہ قبر جنوب مغرب میں بقیع سے خارج تھی پھر سعودی توسیع میں اس کو اندر کر لیا گیا اب موجود وقت میں اس قبر پر بقیع کی دیوار ہے
آپ ﷺ کی دونوں پھوپھیوں سیدہ صفیہ اور سیدہ عاتکہ نبت عبد المطلب کی قبریں بقیع کے شمال صدر دروازے سے داخل ہونے والے بائیں طرف چالیس میٹر کی دوری پر ہے یہ دونوں قبریں متصل ہیں 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں